نعمانیات :
غور طلب بات:
آپ جب قربانی کرتے ہیں تو ایسا جانور خریدتے ہیں جو قربانی کی شرائط پر پورا اترے۔ ان شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ایسے جانور کی قربانی نہیں ہو سکتی جو چل کر قربان گاہ تک نہ جا سکے۔
ہم صرف اس شرط کو جانور پر لاگو کرتے ہیں لیکن اس شرط میں ایک اہم پہلو کو سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ پہلو "قربان گاہ" کا ہے۔
ہم لوگ اتنے سست، کاہل اور لاپرواہ ہو گئے ہیں کہ اپنے گھر کے آگے قربانی کرنے کو اپنا حق اور فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ قربانی کے وقت راستے بند کر دیتے ہیں۔ اور قربانی کرنے کے بعد جانور کا خون، اعضاء اور آلائشیں وہیں چھوڑ کر چل پڑتے ہیں۔ ج عید گزرنے کے مہینوں بعد تعفن او قسم قسم کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ قربانی جو کہ شعائر اسلام میں سے ہے اس کو آلائشوں اور گندگی کی علامت بنا دیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوگی جو قربانی کا مکمل حق ادا کرتے ہیں۔ اکثریت ان لوگوں کی ہے جو اس کو بھی گورنمنٹ کا فریضہ سمجتے ہیں۔ حالانکہ عبادت ان کی اور صفائی گورنمنٹ کرے۔ صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا جس کا گورنمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام کی ہر عبادت میں حقوق العباد کا تصور ضرور ہوتا جس کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس لیے ہم سب کو محلے کی حد پر قربان گاہیں بنانی چاہیئے اور اپنے جانور کو وہاں تک چلا کر لے جانا چاہیے، جیسا کے شرط میں ہے، اور وہیں اپنے جانور کو ذبح کر کے خون، اعضاء اور آلائشوں کو وہیں ٹھکانے لگانا چاہیے۔ تاکہ یہ شعائر اسلام ہی رہے اور ساتھ ہی حقوق العباد بھی ادا ہو جائے۔
از قلم: محمد نعمان انصاری۔